کثیر الازدواجی اور ہندو مذہب

سوامی دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش سملاس (باب) چہارم موضوع نمبر 104 اور ‘رگویدآدی بھاشیہ بھومکا’ Rigvedadi Bhashya Bhoomika مضمون ‘بیاہ کا بیان’ میں لکھتے ہیں کہ مرد کو ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اور ایک عورت کو ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ بیاہ (نکاح) کرنے کی اجازت نہیں  ہے- اس راۓ کے حق میں وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ وید کے منتروں میں خاوند اور بیوی کا لفظ واحد میں آیا ہے- یہی دلیل آج کل کے آریہ سماج پرچارک (مبلغ) بھی دے رہے ہیں- حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دلیل ان کی جانب سے آرہی ہے جو سنسکرت کے عالم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں- انہوں نے کثیر الازدواجی کی ممانعت وید سے صرف اس دلیل کی بنا پر کی ہے کہ چونکہ منتروں میں لفظ واحد آیا ہے- اس لئے صرف ایک ہی عورت کا حکم دیا گیا ہے-  حالانکہ مناسب یہ ہونا چاہئے تھا کہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل کثیرالازدواجی کی برائیوں اور ہر صورت میں ایک ہی نکاح کرنے کی خوبیوں پر وید سے دی ہوتی-

 سوامی صاحب اگر خود اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی پیروی کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ منتروں کے فعل میں تغیر اور تبدل ہو جایا کرتا ہے- اس کی ایک مثال سوامی جی نے خود ‘رگویدآدی بھاشیہ بھومکا’ میں دی ہے

کہ اس میں (کاٹتا ہے) واحد آیا ہے- دراصل (کاٹتے ہیں) جمع چاہئے تھا- کیونکہ اس کا فاعل (جو لوگ) جمع میں ہے- (بھومکا صفہ ٢٢١-٢٢٢ – مترجم نہال سنگھ ١٨٩٨)

یہیں تک بس نہیں- بلکہ وید منتروں میں تو تذکیر اور تانیث اور ضمیروں کے بدلنے کے بھی سوامی جی قائل ہیں- (بھومکا صفہ ٢٢٢) پھر صفہ ٢٢٨ پر مثال (١) میں سوامی جی نے حوالہ دیا ہے کہ “اس مثال میں اسم فاعل جمع کی علامت کی جگہ اسم فاعل واحد کی علامت آئی ہے”- زبان کے بارے میں یہ قواعد بیان کرنے کے بعد چند ایک منتروں میں اگر عورت اور مرد کے الفاظ واحد اس بنا پر آگیے کہ عورت سے مراد تمام جنس عورت اور مرد سے مراد تمام جنس مرد ہے، نہ کہ صرف ایک ہی شخص تو سوامی جی اور آریہ سماج کی یہ دلیل نہایت کمزور معلوم ہوتی ہے-

ذیل میں ہم چند ایک حوالے اس بارے میں دے کر کثیر الازدواجی کی مخالفت کرنے والوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ عقل سلیم اور نقل صحیح کی بنیاد پر ان دعاوی کی تردید کریں-

سوامی دیانند صاحب کی کتب کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مسئلہ کثرت ازدواج کی بنیاد سب سے اول وید کی تعلیم پر ہے- چناچہ پرش سوکت یعنی یجروید ادھیاۓ ٣١ منتر ٢٢ مندرجہ رگویدآدی بھاشیہ بھومکا (اردو) صفہ 84 ، باب پیدائش عالم کا ترجمہ سوامی دیانند صاحب نے یوں کیا ہے-

 اے پرمیشور- شری اور لکشمی دو پیاری بیویوں کی مثال تیری خدمتگذار ہیں

اب بتایے کہ بقول آریہ صاحبان وید جیسی علیٰ درجہ کی کتاب میں ایسی ‘لغو’ اور خلاف عقائد مسلمہ مثالیں نہایت نامناسب ہیں- اس حوالہ سے اس دعوے کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے کی کہ ویدوں میں خاوند اور بیوی کے الفاظ ہمیشہ واحد میں آے ہیں. جب تمثیل کی زبان میں بھی بیوی کا لفظ جمع کے صیغے میں آے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کی کثرت ازدواج ویدوں کی رو سے کوئی قبیح امر نہیں- رگوید کے متعدد منتروں سے یہ ثابت ہے کہ ایک مرد کی کئی بیویاں ہو سکتی ہیں- یہاں پر میں چند منتروں کو پیش کروں گا- رگوید منڈل ١، سوکت ٦٢، منتر ١١ میں ہے : “ہے اندر دیو-جیسے محبت کرنے والی بیویاں اپنے خاوند کو خوش کرتی ہیں، ویسے ہی آپ کے لئے کی گئی تعریفیں آپکو خوش کرتی ہیں-“ رگوید منڈل 7، سوکت ١٨، منتر ٢ میں لکھا ہے- “ہے اندردیو- جس طرح رانیوں کے بیچ میں راجہ رہتا ہے، اسی طرح آپ اپنی تمام تابناکیوں کے ساتھ رہتے ہیں-“ اسی منڈل کے سوکت ٢٦ اور منتر ٣ میں ہے- ” اندردیو دشمنوں کے شہروں کو اپنے قبضے میں ویسے ہی کرتے ہیں جیسے خاوند اپنی بیویوں کو-” شتپتھ براہمن Shatapath Brahman جو ہندو علماء  کے نزدیک یجروید کی مستند تفسیر ہے اور سوامی دیانند کے نزدیک بھی مستند ہے میں بھی کثیر الازدواجی کی حمایت کی گئی ہے- چناچہ اسی کتاب میں کانڈ ٩،ادھیاۓ 4،براہمن ١،کنڈکا ٦ (9/4/1/6) میں لکھا ہے “پہلے یگیہ میں ایک دیوتا کو نظر چڑھائی جاتی ہے اور پھر کئی دیویوں کو کیونکہ ایک مرد کی کئی بیویاں ہوتی ہیں-“

 ویدوں میں تفصیل سے سورگ (جنّت) اور اس میں ملنے والی نعمتوں کا تصور ملتا ہے- اس تصوّر کی رو سے آئندہ عالم جنت میں انسان اپنے تمام اعضاء کے ساتھ داخل ہوگا جن میں اعضاء تناسل بھی شامل ہے- چناچہ اتھرووید کانڈ 4 سوکت 34 منتر 2 میں لکھا ہے- “ان کے عضو مخصوص کو جات ویدہ اگنی (اگنی دیوتا) نہیں جلاتا کیونکہ سورگ میں ان کے لئے بہت سی عورتوں کے جھنڈ ہونگے-” اس منتر سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک عورت تو کیا ویدک سورگ میں تو عورتوں کے جھنڈ کے جھنڈ ایک مرد کو ملیں گے- ایک مرد کا زیادہ عورتوں سے لطف صحبت اٹھانا ویدوں میں بار بار بیان کیا گیا ہے اور اس کو بڑا اونچے درجے کا لطف (آنند) کہا گیا ہے- ویدوں کے سورگ میں ایک مرد کو ایک سے زیادہ عورتیں ملنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کی کثرت ازدواج ویدوں کی رو سے کوئی قبیح امر نہیں- اتھرووید کے اس منتر میں عورتوں کے جھنڈ کے لئے سنسکرت لفظ ‘استرینم’ (सत्रैणम) استعمال ہوا ہے- پاننی (Panini) کے مشہور کتاب ‘اشٹ ادھیایی’ (Ashtadhyaayi) ادھیاۓ 4، پاد ١، سوتر 87 میں اس لفظ کے یہی معنی کئے گئے ہیں-
ان تمام منتروں میں مرد کے لئے صیغہ واحد اور عورتوں کے لئے جمع کا صیغہ لایا گے ہے- جس سے معلوم ہوتا ہے کی ویدوں کے نزدیک ایک مرد کو زیادہ عورتیں ملنا ایک اعلیٰ درجہ کی نعمت ہے- سوامی دیانند بھی خود اپنے یجروید بھاشیہ میں لکھتے ہیں کہ “اے انسانو- جیسے بیل گوؤں کا گابھن کرکے پشووں کو بڑھاتا ہے اسی طرح دنیادار عورتوں کو حاملہ کرکے ان کی نسل بڑھاویں-” (یجروید ادھیاۓ ٢٨ منتر ٣٢) یعنی جس طرح بیل بلا لحاظ تعداد گایوں کو حاملہ کرکے ان کی نسل کو بڑھاتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی اولاد بڑھانے کی فکر کرنی چاہئے- بیل اور گایوں کی اس تمثیل سے یہ اجازت ملتی ہے کہ جیسے ایک بیل کئی گایوں کو حاملہ کرتا ہے ویسے ہی ایک مرد کو کئی بیویوں کے ذریعہ اولاد پیدا کرنی چاہئے-

منو سمرتی Manu Smriti ادھیاۓ 7، شلوک ٢٢١ میں لکھا ہے- “راجا کھانا کھا کر پتنیوں کے ساتھ محل میں بہار کرے”- منو سمرتی ادھیاۓ ٩، شلوک 149 میں لکھا ہے کی ایک برہمن جس کی چار (4) بیویاں ہوں تو انسے جنم لئے ہوئے بیٹوں میں جائداد کی تقسیم کیسے کریں- مہارشی منو کی خود دس (١٠) بیویاں تھیں- اسکا ذکر یجروید کی ایک اور شاکھا (شاخ) میتریانی 1/5/8 Maitrayani Samhita میں ہے-

ان سارے وید منتروں کی بنیاد پر بڑے بڑے ویدک بزرگوں نے جو عمل کرکے دکھایا اس کا نمونے دیکھئے- شتپتھ براہمن کا مصنف رشی یاگیہ ولکیہ (Yajnavalkya) دو پیاری بیویاں- میترئی (Maitreyi) اور کاتیانی (Katyayani) رکھتا تھا- چناچہ برہدارنیک اپنشد Brihadaranyak Upanishad 4/5/1 میں لکھا ہے – 

अथ ह याज्ञवल्क्यस्य द्वे भार्ये बभूवतुर्मैत्रेयी च कात्यायनी च

اور یہ رشی حسب اعتقاد ہندو برادران ایشور کا سچا جاننے والا گذرا ہے- پھر اس پر رشی بھی تھا، جس کے معنے ان کے نزدیک تمام علوم میں ماہر ہو کر دوسروں کو پڑھانے والے کے ہیں- اگر بقول آریہ صاحبان کثیر الازدواجی ازروّے ویدک تعلیم خلاف قانون قدرت تھی، تو ایسے بزرگ کا طرز عمل اسے رشی کے درجہ سے گرانے والا ثابت ہوتا ہے- ایسے بزرگ شخص عالم وید اور رشی کا بلا کسی خاص وجہ کے کثرت ازدواج کا پابند ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانہ میں کثرت ازدواج ازروّے وید جائز تھی-  کیونکہ یہ رشی ویدک عروج کے زمانہ میں ہو گزرے ہیں-

اس کے علاوہ شری رام کے والد راجہ دشرتھ کی تین بیویاں تھیں- کوشلیا – سمترا – کیکی

شری کرشن مہاراج کی آٹھ بیویاں سبھی ہندو تسلیم کرتے ہیں رکمنی – ستیہ بھاما – جمبوتی – کلندی – مترورندا – نگرجتی – بھدرا – لکشانا- اس کے علاوہ انکی ١٦١٠٠ بیویاں بھی تھیں جنکو انہونے نرکسر(Narkasur) کی قید سے آزاد کیا تھا- اس کا ذکر مہابھارت انشاسن پرو (Anushashan Parv) میں ہے- آج کل کے آریہ سماجی پرچارک مہابھارت کے ان حوالوں کو بعد کی ملاوٹ کہ دیتے ہیں لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے- بعض آریہ سماجی کہتے ہیں کہ مہابھارت کا زمانہ اخلاقی زوال کا زمانہ تھا اور ویدک قوانین سے انحراف کیا گیا- حالانکہ ان کے گرو سوامی دیانند نے نیوگ پرتھا (Niyog) کی دلیل اسی مہابھارت سے اخذ کی ہے- اس تمام تجزیہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویدک ہندو دھرم میں کثرت ازدواج کی کوئی ممانعت نہیں اور ویدک دھرم کے بڑے بڑے بزرگوں نے ٹھیک ویدک تعلیم کی بنا پر ہی کثیر الازدواجی کو اختیار کیا-

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: