اجماع سے متعلق – شذرات

اگر فہم کے اجماع کو خطا سے بالا قرار دیا جائے تو پانچ سو ساٹھ سال کی کیتھولک مسیحیت کے اجماعی فہم کے سامنے قرآن کی تنقید کسی مسیحی کے لیے قابل اعتنا نہیں رہے گی- اس لیے کہ ان کے ہاں ان کا اجماعی فہم جو کچھ تشکیل پا چکا تھا، اس اصول کے مطابق وہی حضرت مسیح کے دین کی صحیح ترجمانی قرار پاتی ہے-

(اکتوبر ١٢، ٢٠١٩ )

یہود کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے المسیح ہونے کے دعوے کی تردید میں صرف اپنے اسلاف کا اجماعی فہم تھا۔ مسیح کی شخصیت کا جو فہم ان کے اسلاف نے قائم کیا تھا، وہ اس کا مصداق عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں پاتے تھے۔ اور ان کا انکار کرتے ہیں۔ لہذا مشتاق صاحب کا یہ دعویٰ کہ اہل کتاب کے پاس کتاب تو تھی لیکن اپنے اسلاف کا اجماعی فہم نہیں تھا اور اس وجہ سے کتاب ان کے ہاتھ میں کھلونا بن گئی محل نظر ہے۔ یہود فہم کے معاملے میں اپنے سلف کے اجماع پر اڈے رہنے میں ہمارے فقیہوں سے زیادہ متشدد ہیں۔

(اکتوبر ١٢، ٢٠١٩)